آئی ایم ایف قرض کی پہلی قسط جاری، شرائط کی طویل فہرست بھی تھما دی جانیے، کیا بڑی شرط ہے؟ کیا کیا کتنا مہنگا ہوگا؟

0 797,988,127

آئی ایم ایف قرض کی پہلی قسط جاری، شرائط کی طویل فہرست بھی تھما دی جانیے، کیا بڑی شرط ہے؟ کیا کیا کتنا مہنگا ہوگا؟

 

واشنگٹن : آئی ایم ایف نے قرض کی پہلی قسط کے اجرا کے ساتھ ہی شرائط کی طویل فہرست بھی تھما دی اور کہا پاکستان آئندہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہیں دے گا اور ٹیکس محصولات 5503ارب روپے جبکہ بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی بنیادوں پراضافہ کرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے قرض کی پہلی قسط کے اجرا کے ساتھ ہی معاہدے کی تفصیلات اورشرائط بھی بتادیں، آئی ایم ایف کے اعلامیے میں حکومت پر اسٹیٹ بنک سے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلیے نیا قرض لینے پرپابندی عائد کردی گئی ہے اور کہا پاکستان آئندہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں دےگا۔

اعلامیے کے مطابق حکومت ستمبر تک سگریٹس پر ایکسائزز کیلِئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کیلیے لائسنسز جاری کرے گی اور پاکستان اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹس سے نکلنے کیلیے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک پر موثر اقدامات اٹھا ئےگا۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ستمبر تک حکومت نیپرا کے تعین کردہ بجلی کے نئے ریٹس کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی اور حکومت ستمبر تک عالمی شراکت داروں کے تعاون سے جامع سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کا پلان تیار کرے گی جبکہ دسمبر تک پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے کا کسی نامور عالمی ادارے سے آڈٹ کرایاجائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا سرکاری اداروں میں گورننس اور شفافیت کو بہتر بنانے کیلیے پارلیمنٹ میں قانون کا مسودہ پیش کرنا ہوگا ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں ایک ہزار اکہتر ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا کرنا ہے۔

ستمبر تک حکومت کو تعلیم و صحت پر تین سو انچاس ارب روپے خرچ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پہلی سہ ماہی میں پینتالیس ارب روپے خرچ، ستمبر تک پاور سیکٹر کو ستمبر تک تئیس ارب روپے کے بقایاجات کی ادائیگی، ستمبر تک حکومت کو پچھہتر ارب روہے کے ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کرنی ہے۔

آئی ایم ایف کاکہناہےکہ پاکستان کوٹیکس محصولات میں اضافہ کرکےپانچ ہزارپانچ سوتین ارب روپےکرنا ہے، مختلف ٹیکس اقدامات سےحکومت کوسات سوتہترارب روپےملنےکا امکان ہے۔

آئی ایم ایف مذکورہ اہداف پرپیش رفت کا جائزہ لیکر ستمبر کے بعد نئی قسط جاری کرنے کا فیصلہ کرے گا جبکہ پاکستان حکومت پیشگی شرائط پر عمل کر چکی ہے، بینکوں کی شرح سوداورگیس وبجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیاجاچکاہے۔

آئی ایم ایف چیف کا کہناہےکہ پاکستان کو معاشی نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا۔ٹیکس آمدن بڑھانامعاشی استحکام کیلئےضروری ہے۔ روپےکی قدرحقیقت کےقریب ترہو۔

خیال رہے عالمی مالیاتی ادارے سے پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالرقرض پروگرام کی پہلی قسط آج جاری کی جائےگی، قسط کا حجم ایک ارب ڈالر ہوگا۔پروگرام کےتحت پاکستان کو سالانہ دو ارب ڈالر ملیں گے۔

آئی ایم ایف کاقرض پروگرام پاکستان میں معاشی اصلاحات اور ادائیگیوں کا توازن بہترکرنےکیلئےمددگارثابت ہوگا ، جبکہ علمی مالیاتی ادارےسےمعاہدے کے بعد پاکستان پر دیگر مالیاتی اداروں سے قرض کےحصول کی راہ ہموارہوگئی ہے، پہلے بھی پاکستان نے دوست ممالک سے ساڑھے سات ارب ڈالرحاصل کئے ہیں۔

Comments
Loading...