عبقری جولائی 2019

عبقری جولائی 2019

0 34,535,256

عبقری جولائی 2019

 

عبقری جولائی 2019

عبقری حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی دامت برکاتہم العالیہ کی ایک بہت بڑی کاوش ہے، ان کا مختصر تعارت اور دیگر تفصیل میگزین کے نیچے دی گئی ہے۔

اس ماہ کا تازہ ترین میگزین پڑھیےہماری ویب سائٹ پر۔

 

عبقری جولائی 2019

 


نوٹ پبلشر کی محنت اور اخراجات کو دیکھتے ہوئے ہر ماہ کا شمارہ ہر ماہ کے دوسرے ہفتے میں اپ لوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے جب تک کوئی بھی گزشتہ شمارہ پڑھیں اور انتظار فرمائیں۔

 

شجرہ ٔ نسب

حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی دامت برکاتہم العالیہ ‘بن حکیم محمدرمضان چغتائؒی بن حاجی اللہ بخشؒ بن مفتی حاجی فتح محمدؒ بن مولانا ولی محمدؒ بن مولانا عبدالحؒق بن مولانافیض محمدؒ بن صوفی غلام محمدؒ۔

آباؤ اجداد کا مختصر تعارف

حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم یکم نومبر1967؁ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں پیدا ہوئے ۔والد محترم کا نام حکیم محمد رمضان چغتائیؒ ہے۔ آبائی وطن احمد پور شرقیہ ہے‘جہاں آپ کا خاندان معزز حیثیت کے ساتھ صدیوں سے آباد ہے ،گہرے مذہبی وروحانی تعلق کے ساتھ ساتھ آپ کےآباؤ اجدادتجارت اور زمینداری سے وابستہ تھے۔آپ کے اجداد میں مولانا عبدالحق ؒتقریباًپونے دو صدیاںپہلے غزنی سے ہجرت کر کے احمدپور شرقیہ تشریف لائے تھے۔ آپؒ صوفی منش اوردرویش صفت انسان تھے ۔غزنی کے بعض مشائخ رحمہم اللہ اجمعین نے آپؒ کو ایک چوغہ عنایت کیا تھاجس میں عجیب وغریب برکات اور شفائی خوبیاں تھیں۔ مشکلات کے حل اور قضائے حاجات میں اکسیر تھا ۔اس حوالہ سے جب اس بابرکت چوغےکی شہرت اردگرد پھیلی تو خلقت کا رجوع اتنا بڑھ گیا کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔چنانچہ افراط وتفریظ کے باعث فتنہ کے خوف سے آپؒ نے وہ چوغہ واپس غزنی بھیج دیا۔اس خاندان کی دینی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے خاندانی اکابر کا شاملی اور بالاکوٹ کے میدان میں بھرپور مالی اور بدنی حصہ رہاہے‘ حتیٰ کہ حضرت صوفی غلام محمد ؒ کی شہادت شاملی کے میدان ہی میں ہوئی تھی۔
مولانا عبدالحقؒ کے صاحبزادے کا نام مولانا ولی محمدؒ تھا۔آپؒ عالم ہونے ساتھ ساتھ سلسلہ قادریہ کے عظیم صاحب ِنسبت بزرگ بھی تھے۔ سماجی و فلاحی کاموں میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور اس حوالے سے آپؒ کی عوامی‘ فلاحی اور سماجی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کو ذکر کرنے کے لئے مستقل مضمون کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے خاندانی ذیلی نسبت (اَل) ولی بھی لکھی جاتی ہے ۔
حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے آبائی سلسلہ کی مشہور شخصیت مفتی حاجی فتح محمدؒہیں ‘جو اپنے وقت کے مایہ ناز عالم اورباکمال صوفی تھے۔طبعاً سخی مزاج تھے‘ اس لئے اپنے والد مولانا ولی محمدؒکی طرح سماجی وفلاحی کاموں کا شغف رکھتے تھے۔نیز غرباء مساکین اور معذور جانوروں کی خدمت کوبھی اپنے لیے سعادت سمجھتے ۔ دینی مدارس و مراکز سے بہت گہرا تعلق رکھتے اور ان پر دل کھول کرخرچ کرتے تھے ۔اسی تعلق کا نتیجہ تھا کہ ان کی وفات پر پورے برّ ِصغیر خصوصا ًبہاولپور کے ممتاز مذہبی تعلیمی اداروںاور خانقاہوں نے انکی خدمات کو سراہا اور تعزیتی شذرے و مضامین شائع کئے ۔
حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے دادا جناب حاجی اللہ بخشؒ بہت صالح اور متقی آدمی تھے۔ زمینداری اورتجارت سے وابستہ تھے۔قرآن پاک سے اتنا عشق تھا کہ روزانہ تین مرتبہ اس کی تلاوت فرماتے۔ حتیٰ کہ جب وصال کا وقت آیا تو اس وقت بھی قرآن پاک کی تلاوت کے بعد دعا مانگ رہے تھے حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے والد محترم کا نام حکیم محمد رمضان چغتائیؒ ہے۔ آپؒ اپنے دور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت متقی انسان تھے۔ 1958 ءمیںکراچی یونیورسٹی سے ایم ایس سی سائیکالوجی کی ڈگری حاصل کی۔اس وقت پورے ملک میں صرف کراچی ہی میں اس مضمون میں ماسٹر تک تعلیم دی جاتی تھی اور تمام تعلیمی عملہ بھی غیر ملکی ہوتا تھا ۔ آپ کا زمینداری اورتجارت کے ساتھ طب و حکمت سے بھی تعلق تھا ۔

ابتدائی تعلیم

حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے اپنی تعلیم کا آغاز احمد پور شرقیہ سے کیا اور گورنمنٹ ڈگری کالج احمد پور سے FSC کرنے کے بعد 88تا91ء گورنمنٹ طبیہ کالج بہاولپور سے اعلیٰ پوزیشن میں طب و جراحت کی تعلیم حاصل کی۔آپ کو گولڈ میڈل دیا گیا ۔

اعلیٰ تعلیم

علاوہ ازیں اس سے پہلے دورانِ تعلیم آپ اپنی بہترین تعلیمی قابلیت اور عمدہ اخلاق و کردار کے باعث سکالر شپ اور وظائف حاصل کرتے رہے ۔آپ نے Method of Treatment کے عنوان پر 2400صفحات پر محیط ایک گراں قدرعلمی مقالہ تحریر کیا‘جس پر آپ کو 1991؁ء میں سنچری ایوارڈ دیا گیا ۔مشہور صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے حوالے سے علمی خدمات پر آپ کو 1999؁ء میں خواجہ غلام فریدؒ ایوارڈ ملا۔اسی طرح دیگر طبی و تحقیقی موضوعات پر خدمات کے عوض آپ کو متعدد اعزازات و ایوارڈز بھی ملے ۔بعد ازاںآپ دامت برکاتہم نے ’’ ہر بل ہیلتھ ‘‘ کے عنوان پر تحقیقات کرکے امریکہ سے P.H.Dکی ڈگری حاصل کی ۔

روحانی فیض

برصغیر میںاسلام ،امن و آشتی اور روحانیت کا تمام تر سہرا حضرات صوفیائےکرام رحمہم اللہ اجمعین کے سر ہے۔ انہی صوفیائےکرام میں پانچویں صدی ہجری کے ایک مشہور بزرگ (جو نہ صرف ایک صوفی تھے‘ بلکہ صوفی ازم کے مجدد تھے )حضرت ابو الحسن سید نا علی بن عثمان الہجویری المعروف بہٖ داتا گنج بخشؒ ہیں۔ آپؒ کی خاص آل میں سےآپؒ کے نسبی فرزند حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ مجذوب ہجویریؒ تھے‘ جن کے آباءواجداد ہجویرسے ہجرت کر کے دہلی آکر بس گئے تھے۔بعد ازاںحضرت خواجہ سید محمد عبداللہ ہجویریؒ لاہور تشریف لائے ۔

آپؒ ایک باکمال روحانی عامل ہونے کے ساتھ ساتھ بے مثال صوفی بھی تھے۔حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی ؔچغتائی دامت برکاتہم العالیہ نے انہی باکمال شخصیت حضرت خواجہ صاحبؒ کی خدمت میں رہ کر تصوف (صوفی ازم ) روحانیت اور دیگر مخفی و روحانی علوم میں کمال حاصل کیا۔چنانچہ ستمبر1991ء؁میں حضرت خواجہ صاحبؒ نے حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو تصوف کے چاروں سلسلوں یعنی قادری ،چشتی ، سہروردی اور نقشبندی میں خلافت و اجازت اور اپنی جانشینی عطا فرمائی ۔اسی سال حضرت خواجہ صاحبؒ عمرہ کیلئے حرمین شریفین روانہ ہوئے ۔بقضائے الٰہی مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں احاطہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں دفن ہونےکی سعادت حاصل کی۔بعد ازاں پاکستان ‘بھارت اور عرب کے بعض مشائخ نے بھی حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو خلافت و اجازت مرحمت فرمائی۔ چنانچہ عرب علاقوں میں مشہور سلسلہ ٔشاذلیہ کی خلافت بھی آپ دامت برکاتہم کوعطا کی گئی جو ایک عظیم المرتبت صوفی بزرگ شیخ ابو الحسن شاذلیؒ تک پہنچتاہے ۔

خدمات

حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے شیخ و مرشدحضر ت سید محمد عبداللہ ہجویریؒ کے دل میں دکھی انسانیت کی خدمت کا بے پناہ جذبہ تھا۔ اپنے مرشد کریمؒ سے یہی خوبی حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو ملی۔ چنانچہ آپ 1984ء سے تا دم ِتحریر زندگی کے مختلف شعبوں میں رنگ ونسل ، مذہب و ملت اورمسلک و گروہ کی تمام تفریقات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔آپ کا مین ٹائٹل طب ،تصوف ،روحانیت ، امن بین المذاہب ، غیر مسلموں سے حسن سلوک اور رواداری ہے ۔ درج بالا امور میںہر اعتبار سے (یعنی تصنیف و تالیف ، تقریر و بیان ،علمی ، روحانی ، جسمانی ، مالی اور بدنی) آپ کی گراں قدر خدمات ہیں۔

تصنیف و تالیف

آپ دامت برکاتہم اب تک مختلف موضوعات پرتقریباً پونے تین سو کتب تالیف کر چکے ہیںاوریہ سلسلہ مزیدجاری ہے ۔یہ کتب صوفی ازم ، روحانیت ، عملیات ‘ وظائف ‘تاریخ ، تقسیم1947؁ء نفسیاتی مسائل ،مرد وخواتین کے جنسی مسائل ، جسمانی بیماریاں ،ٹینشن ، اینگزائٹی ، گھریلو الجھنیں ،تربیت ِ اولاد ، جڑی بوٹیوں اور پھلوں کے فوائد، طب ِنبوی ؐ اور جدید سائنس ،سنت ِ نبویؑ اور جدید سائنس، جادو ، جنات، جانوروں کی زندگی اور دیگر اہم مو ضوعات و مسائل پر مشتمل ہیں ۔ان تالیفات میں طبِ نبویﷺ اور جدید سائنس ایک ایسی کتاب ہے جس نے صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔اکثر و بیشتر کتب کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور بہت سی کتب کئی یونیورسٹیز کے نصاب میں شامل ہیں۔

عبقری میگزین کا اجراء

مذکورہ بالا موضوعات ‘جن پرحضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کتب مشتمل ہیں ‘دراصل دورِ حاضر کےاہم مسائل ہیں۔کتب کے علاوہ انہی تمام مسائل کا حل عام و خاص ، زیادہ یا کم پڑھے لکھے ، مسلم و غیر مسلم ، ملکی و غیر ملکی سطح پر پہنچانے و پھیلانے کیلئے جون 2006؁ء میںحضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے’’ عبقری‘‘ کے نام سے ایک میگزین جاری کیا جس کے ایڈیٹر خود حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی ہیں ۔عبقری میگزین میں روحانی ، جسمانی ، طبی ، نفسیاتی ،سماجی اور دیگر اہم موضوعات پر قابل قدر مضامین شائع ہوتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عبقری کے قارئین اپنے تجربات و مشاہدات پر مبنی ایسی قیمتی باتیں اور روحانی و جسمانی و طبی نسخہ جات لکھ لکھ کر بھیجتے ہیں‘ جن کو وہ ہیرے جواہرات کی طرح حفاظت سے چھپا چھپا کر رکھتے تھے اور عبقری ان کو مسلسل شائع کرکے انسانیت کی وہ خدمت کر رہاہے‘ جو شائد کسی اور میگزین کے حصہ میں نہیں آئی۔

Ubqari Magazine Official
موجودہ دور کا اہم عالمی مسئلہ امن بین المذاہب اور مسلم و غیر مسلم کے مابین باہمی رواداری و حسن سلوک ہے ۔اس حوالے سے عبقری کی خدمات لازوال ہیں ‘ عبقری اس اعتبار سے پاکستان کا واحد میگزین ہے‘ جس میں ہرماہ غیر مسلم طبقے سے رواداری کے عنوان پر مستقلاًایک مکمل کالم چھپتاہے۔ جس میں پیغمبر اسلام حضورسرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرامؓ،تابعین عظام‘ائمہ دین اور سلف صالحین رحمہم اللہ اجمعین کے غیر مسلموں سے حسن سلوک ورواداری کا مکمل نقشہ پیش کیا جاتاہےکہ ان حضرات کاغیر مسلموں سےمعاملہ کیسا تھا ۔یہ کالم کتابی صورت میں مرتب ہو کراردو اور انگلش دونوں زبانوں میں شائع ہو چکا ہے ۔جس کا نام ہے ’’ پیغمبر ِ اسلام ﷺ کا غیر مسلموں سے حسن ِ سلوک ‘‘
اپنی انہی اعلیٰ خوبیوں کی بناء پر انتہائی مختصر مد ت میں’’ماہنامہ عبقری‘‘ ایک مقبول ترین اور عالمی میگزین بن گیا ، جس سے پوری دنیا میں مختلف مذاہب ، رنگ و نسل ، مسلک و مشرب کے بلا شبہ لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں (الحمد للہ الذی بنعمتہٖ تتم الصالحات)پاکستان کا واحد میگزین جس کی سر کولیشن تمام مذہبی ، سیاسی ،سماجی ، طبی ، نفسیاتی اور روحانی میگزینز سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس وقت (2018ء) تک عبقری میگزین چھپنے کی تعداددو لاکھ سے متجاوزہوچکی ہے اور یہ تعداد ہر ماہ مزید بڑھتی جارہی ہے ۔(بسم اللہ ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ )اہم بات یہ ہے کہ کوئی ایک میگزین بھی اعزازی یا فری نہیں دیا جاتا ۔بلکہ اس کی ہر دلعزیز ی کے باعث لوگ اسے خرید کر پڑھتے ہیں‘ سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں اورخرید کر دوسروں کو محبت وہمدردی کے جذبات کے تحت گفٹ بھیجتے ہیں۔ سال کے اختتام پر مکمل سالانہ فائل کی خریداری اس کے علاوہ ہے ۔سالانہ فائل کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے 2006؁ء سے لیکر اب تک کے تمام میگزینز زیادہ تعداد میں بار بار چھاپ کر فائل تیار کی جاتی ہیں ۔اسی طرح پچھلے تمام میگزینز افادۂ عام کیلئے اور بالکل فری پڑھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے عبقری کی ویب سائٹ پر بھی موجو د ہیںبلکہ اردو دان طبقے کے علاوہ لوگوں کے استفادے کے لئے مکمل میگزین کا انگلش ترجمہ بھی اَپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سندھی قارئین کے پرزور اصرار پر عبقری میگزین ’’ ماہنامہ گھریلو الجھنیں ‘‘کے نام سے سندھی زبان میں بھی جاری کیا جاچکا ہے ۔اس کے علاوہ حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے طب، روحانیت اور صوفی ازم پر مضامین اور کالم مختلف ملکی و غیر ملکی رسائل ، اخبارات و میگزینز میں چھپتے رہتے ہیں ۔جن سے کثیرالتعداد لوگ افادۂ عام حاصل کررہے ہیں۔

بیانات و لیکچرز

حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے روحانیت ، تصوف (صوفی ازم )امنِ عالم، باہمی رواداری و حسنِ اخلاق کی ترویج وترقی کیلئےایک عظیم روحانی مرکز یعنی ’’تسبیح خانہ مرکز روحانیت و امن ‘‘قائم کیا ۔قدرتی بات ہے کہ یہ مرکز ِ روحانیت و امن نیشنل کونسل فار چرچزاِن پاکستان کے مرکزی دفتر کے متصل واقع ہے اور یہ محل و قوع بذاتِ خودایک بلند Causeیعنی امن بین المذاہب کا ظاہری اور منہ بولتا ثبوت ہے ۔

اس تسبیح خانہ مرکز روحانیت و امن میں حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہر ہفتہ (بروز جمعرات بعد از نماز مغرب)تصوف(صوفی ازم )روحانیت ،امن ِعالم ‘ صبرو درگذراور دورِ حاضر کےسلگتے مسائل کے حل کے موضوع پر لیکچر دیتے ہیں‘ جس میں ہر مسلک و گروہ کے ہزاروں مرد و خواتین شریک ہوتے ہیں ۔درس میں شامل ہونے والے مجمع کے علاوہ یہی درس اس وقت پوری دنیاکے195ممالک میں سے تقریباً 192ممالک میں آن لائن بھی سنا جاتاہے(یہ تعدادبھی مزید بڑھ رہی ہے) جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں ، جو درس کو مکمل توجہ اور دھیان سےسنتے اوراس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔لیکچر اتنا پُرسوز ، دل نشین ، عمدہ اورہر آدمی کی ضرورت کے مطابق ہوتاہے کہ ایک مرتبہ سن لینے والا بار بار سننے کی تمنا رکھتاہے اور پھر ہر بار نہ صرف خود شریک ہوتاہے‘ بلکہ دیگر دوست واحباب کو بھی شرکت پر مجبورکرتاہے ۔اکثر لوگوں کا بیان ہے کہ ایک دفعہ کا سنا ہوا درس ہمیںاپنی غفلت بھری ترتیب ِ زندگی بدلنے پر مجبور کردیتا ہے ۔
درس میں شامل ہونے والےتمام شرکاءCD,sکیسٹ، موبائل وغیرہ کے ذریعے اس درس کو مزیدآگے شیئر کرتے ہیں ۔یہاں تک کہ ان لیکچرز کو ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے بے شمار لوگ سنتے ہیں ۔ان لیکچرز کو سننے والے شرکاء کی زندگی میں ایمان ،اعمال ، ذکر ، روحانیت ، مراقبہ ، ذہنی سکون، گھریلو مسائل سے نجات، کاروباری مشکلات سے چھٹکارےاور اولاد کی تربیت کے حوالے سے ایک حیرت انگیز اور نمایاں تبدیلی ہر شخص محسوس کرتاہے حتیٰ کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ہمیں آج معلوم ہواہے کہ اسلام میں حقیقی تصوف اور روحانیت کیا ہے۔
حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ان لیکچرز ، کتب اور آرٹیکلز کے اقتباسات اور Tipsفیس بک اور دیگر سوشل ویب سائٹس Twitterوغیرہ کے ذریعے بکثرت شیئر کیے جاتے ہیں جنہیںاندرون و بیرن ملک کےاخبارات و میگزینز بھی نمایاں طور پر شائع کرتے ہیں۔

حلقہ کشف المحجوب

دنیا میں تصوف(صوفی ازم )و روحانیت پر ہزاروں کتب لکھی گئی ہیں‘ ان تمام کتب میں تقریباً ہزار سال قبل لکھی گئی زندہ وتابندہ کتاب کشف المحجوب ہے‘ جس کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس کے مصنف مشہور ترین صوفی بزرگ ابوالحسن حضرت سید علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کو یہ عظیم کتاب ان کے مرشد رحمۃ اللہ علیہ نے سبقاً سبقاًپڑھائی تھی۔ اپنے مرشد کریم کی اقتداء میں حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فرزند حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی دامت برکاتہم و انوارھم بھی ہر ماہ اس کتاب کو سبقاًسبقاً پڑھاتے ہیں ۔

مراقبہ

تصوف اور روحانیت مراقبہ کے بغیر نامکمل ہیں‘ اس لیے مرکز روحانیت و امن میں مراقبہ پر بہت توجہ دی جاتی ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مراقبہ روحانیت کے علاوہ عالمی‘ نفسیاتی ، جسمانی مسائل اور ذہنی الجھنوں کا آخری اور کامیاب حل ہے ۔چنانچہ مرکز روحانیت و امن تسبیح خانہ میں حلقہ کشف المحجوب کے بعدمراقبہ کروایا جاتاہے اور اس کے بعد دعا ہوتی ہے ۔اس دعا میں تمام مسلمانوں اور دیگر تمام اہل مذاہب( عیسائی ، یہودی ، سکھ ،ہندو،بدھ مت وغیرہ) تمام کیلئے ایمان ،ہدایت، دل کے سکون ، معاشرہ کے امن و آشتی ، تمام مسائل ، گھریلو الجھنوں اور آخرت کی راحت و کامیابی کی خصوصی مِنّت کی جاتی ہے۔

  مختلف اسفار

حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ پاکستان وبیرون ملک سفر کرتے ہیں اور دوران سفر بھی لیکچرز کا سلسلہ جاری رہتاہے اور یوں مختلف علاقوں کے لوگ بھی تصوف (صوفی ازم)روحانیت اور الجھے ہوئے، پیچیدہ قسم کےروحانی و جسمانی مسائل کے حل پر حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے قیمتی لیکچرز سے مستفید ہوتے ہیں ۔حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اب تک1200سے زائد لیکچرز ہوچکے ہیں اور نہ رکنے والا یہ بابرکت سلسلہ سفر وحضر میں جاری و ساری ہے ۔ان شاء اللہ ۔آپ دامت برکاتہم کے لیکچرز عبقری کی ویب سائٹ پر موجود ہیں جن کو سنا اور ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتاہے ۔اسی طرح CD’sاور مطبوعہ صورت میں بھی دستیاب ہیں۔

Hazrat Hakeem D.B in Desert

عبقری ٹرسٹ

دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے 2010؁ء میں عبقری ٹرسٹ(رجسٹریشن نمبر:P/6237/L/S/10/1534)قائم کیا۔ یہ ٹرسٹ مذہب، مسلک ، رنگ و نسل ہر قسم کی تفریقات اور اختلافات سے ہٹ کر سب کی خدمت کر رہاہے اور مسائل کا حل لوگوں کو ان کی دہلیز تک پہنچانے کی سعی کر رہاہے ۔زلزلہ زدگان ، سیلاب زدگان میں عبقری ٹرسٹ کی شاندار خدمات ہیں۔

عبقری انڈسٹریز(رجسٹرڈ)

مفاد ِعامہ کے پیش نظر ، تمام لوگوں کی خدمت کیلئے عبقری دوا خانہ قائم کیا گیا ہے ۔عبقری دوا خانہ بھی ہر مذہب و مسلک کے لوگوں کے کام آرہاہے ۔یہاں آنے والا چاہے کسی جسمانی مسئلہ کا شکار ہویا روحانی مسائل میں الجھا ہوا، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم ‘سب کی بغیر کسی مشورہ فیس کے مکمل طبی و روحانی رہنمائی کی جاتی ہے ۔

مذکورہ بالا تحریر ایک جھلک ہے اُس سفرِروحانیت و امن اور صوفی ازم کی‘ جو حضرت حکیم محمد طارق محمود عبقری مجذوؔبی چغتائی دامت برکاتہم العالیہ کی رہنمائی میں لاکھوں لوگ طے کر رہے ہیں ۔اس قافلۂ امن کا ہر فرد اپنے اپنے مستقرو مقام پر رہتے ہوئے خدمتِ خلق کے اعلیٰ جذبہ سے سرشار ہے اور تصوف ، روحانیت اور امن ِ عالم کا داعی بنا ہواہے۔الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔۔۔

Comments
Loading...